امریکی سائنس دانوں نے رعشے کو جنم دینے والا جین دریافت کرلیا30-7-2010
واشنگٹن…سینٹرل مانیٹرنگ…امریکی ریاست کیلی فورنیا کی اسٹین فورڈ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں نے وہ جین دریافت کرلیا ہے جو رعشے کے مرض کو جنم دیتا ہے۔رعشے کا مرض جس میں عمر رسیدہ افراد ناصرف اپنا جسمانی توازن کھو دیتے ہیں بلکہ انکے اعضاء میں لرزہ پیدا ہوجاتا ہے ایسے ذرات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جواعصابی خلیوں کو مردہ کردیتے ہیں۔اس جین میں پیدا ہونے والا تغیّر MicroRNA نامی ذرات میں بگاڑ پیدا کردیتا ہے جو بعدازاں جسم میںDopamineنامی پروٹین پیدا کرنے والے اعصابی خلیوں کو مُردہ کردیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس نئی دریافت سے طب کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا گیا ہے جس کے ذریعے اب رعشے جیسے مرض کے لیے ایسی ادویات تیار کی جاسکیں گی جو ان ذرات سے پیدا ہونے والے منفی اثرات کا توڑ کرسکیں گی۔واضح رہے کہ تاحال رعشے جیسے مرض کے لیے استعمال میں لائی جانے والی ادویات عارضی طور پر اس مرض کی علامات کو کم کرتی ہیں جن کے بیحدمضر اثرات ہوتے ہیں اور یہ اعصابی خلیوں کو مُردہ ہونے سے بھی نہیں روک پاتیں۔
 - 1220 PST
 - 1200 PST
 - 1140 PST
 - 1120 PST
 - 1100 PST
 - 1040 PST
 - 1050 PST
 - 1030 PST
 - 0950 PST
 - 0920 PST
 - 0630 PST
 - 0700 PST
 - 0800 PST
 - 0520 PST
 - 0600 PST
 - 0910 PST
 - 0430 PST
 - 0500 PST
 - 0500 PST
 - 0850 PST
 - 0840 PST
 - 0820 PST
 - 1720 PST
 - 1700 PST
 - 1650 PST
 - 1640 PST
 - 1630 PST
 - 1620 PST
 - 1610 PST
 - 1600 PST
|