خیبرپختونخوا،پنجاب،آزاد کشمیر میں تباہی،ہزاروں لوگ امداد کے منتظر
30-7-2010
پشاور…شمالی علاقہ جات اورخیبر پختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں،گلگت میں سیلابی ریلے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس زیر آب آگیا، جبکہ نوشہرہ میں دریائے کابل میں طغیانی سے ہزاروں لوگ سیلاب میں پھنس گئے۔گلگت بلتستان میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے تمام علاقوں کا ملک سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیاہے۔گلگت میں سیلابی ریلے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس بھی زیر آب آگیا ہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مقامی ہوٹل منتقل ہوگئے۔بسین میں گزشتہ رات سے رینجرز کے چودہ اہلکار سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کے لیے ریسکیوآپریشن جاری ہے۔خیبرپختون خوا میں صورت حال اور بھی سنگین ہوگئی ہے۔دریائے سوات کا پانی نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں داخل ہوگیا جس کے باعث نوشہرہ کلاں اور نوشہرہ چھاؤنی کا علاقہ زیرآب آگیا۔ہزاروں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اورامدادکے منتظر ہیں،جبکہ ڈسٹرکٹ اسپتال بھی زیر آب آگیا۔اسپتال کے عملے اور مریضوں نے اسپتال کی چھت پر پناہ لے رکھی ہے۔ڈی پی او نوشہرہ نثارتنولی کے مطابق متاثرین کی امداد کے لیے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔کوہاٹ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ چار زخمی ہوگئے۔گزشتہ دودنوں میں کوہاٹ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 29ہوگئی۔خیبر پختون خوا میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے مجموعی طورپر دو سوسے زائد افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں۔بٹ گرام کے علاقے ککڑشنگ میں پل پانی میں بہہ جانے سے علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا،جبکہ دوگھر بھی گر گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا،جبکہ منری میں ایک مسجد شہید ہوگئی۔